اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسے میں کہ جب یمن میں صلح کے مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے میں ایک ماہ سے کم کا عرصہ رہ گیا ہے اور سرکاری طور پر اس ملک میں جنگ بندی کی تدبیریں سوچی جا چکی ہیں سعودی اتحاد اس ملک خاص کر غیر فوجی علاقوں پر حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔
ان حملوں کو دن بدن بین الاقوامی رد عمل کا سامنا ہے ،اور حال ہی میں جو سلامتی کونسل کا جلسہ یمن کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا ہے اس میں حملوں کی شدت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ،یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے نے کہا ہے کہ کافی کوششوں کے باوجود طرفین کے درمیان اختلاف اس حد تک ہے کہ جو صلح کے پورے عمل کو شکست سے روبرو کر سکتا ہے ۔
یمن کے سلسلے میں تازہ ترین تبدیلی میں زید ابن رعد الحسین نے کہ جو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کا کمشنر ہے منگلوار کے دن سلامتی کونسل کو بتایا کہ سعودیوں کا بنایا ہوا اتحاد یمن میں غیر فوجیوں پر بھاری تعداد میں حملوں کا ذمہ دار ہے ۔اس نے سلامتی کونسل کی پہلی کھلی بیٹھک میں یمن کے سلسلے میں کہا ۹ ماہ پہلے جب سے یہ حملے شروع ہوئے ہیں اس وقت سے وہ انتہائی تشویش کے ساتھ یمن کے زیادہ آبادی والے علاقوں پر شدید حملوں کو جو ہوا سے اور زمین سے ہو رہے ہیں اور اس طرح یمن کے بنیادی ڈھانچے ،ہسپتالوں اور اسکولوں کی تباہی کو دیکھ رہے ہیں ۔
اس نے مزید کہا اس لڑائی کے تمام فریق اتحادیوں کے بھاری تعداد میں حملوں کے ذمہ دار ہیں ۔اس نے آگے مزید کہا ؛ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ تمام فریقوں کو طاقت کے استعمال سے روک دے اور تمام فریقوں سے کہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی پابندی کریں ۔
یمن کے بارے میں سلامتی کونسل کا جلسہ ایسی حالت میں منعقد ہوا کہ اقوام متحدہ میں حاضر کچھ سیاستمداروں نے کہا کہ بعض مغربی ممالک رفتہ رفتہ سعودی عرب پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ کرے ۔ ان سیاستمداروں کے بقول منگلوار کی نشست کا مقصد تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے لوگوں کے قتل عام کو روکنے پر آمادہ کرنا ہے ۔
سامانتا پاور کہ جو اقوام متحدہ میں امریکہ کا نمایندہ ہے اور دسمبر کے مہینے میں جس کا ملک اس کونسل کا صدر ہے اس نے کہا کہ تمام فریقوں کو انسانی حقوق کا پابند ہو نا چاہیے ۔اس نے اپنے بیان میں سعودی اتحاد میں موجود حکومتوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ؛ اس اتحاد سے کہ جس کی رہبری سعودیہ کے پاس ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی مقاصد کی ضمانت دے اور غیر فوجیوں کے مارے جانے کے بارے میں تحقیقات کرے اور ان حوادث کو روکنے کے لیے لازمی اصلاحات انجام دے ۔
اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق کی مدافع تنظیموں نے مغربی ملکوں پر تنقید کی جو سعودیہ کی ہتھیاروں سے حمایت کر رہے ہیں ۔جرارڈ فین بوھمین نے کہ جو اقوام متحدہ میں نیوزیلینڈ کا سفیر ہے سلامتی کونسل کے جلسے میں کہا : غیر فوجی علاقوں کے اندر اور اس کے اطراف میں مخاصمانہ اقدامات ،منجملہ بھاری ہتھیاروں اور لچھے دار بموں کا استعمال اسی طرح ہوائی حملے اور ہوائی توپوں کے گولے بے شمار اور ناقابل قبول تعداد میں غیر فوجیوں کے قتل عام کا باعث بنے ہیں ۔
یہ ساری تبدیلیاں ایسے حالات میں رونما ہو رہی ہیں کہ یمن کے صلح کے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ۔اسماعیل ولد شیخ احمد ،یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمایندے نے یمن میں صلح کے مذاکرات کے دشوار ہونے کا اعتراف کرنے کے ضمن میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں جنگ بندی کی مکمل حمایت کرے ۔
اس نے اس سلسلے میں کہا : سویزر لینڈ میں جو حکومت اور انقلابی طاقتوں کے درمیان یمن کے مناقشے کے سلسلے میں مذاکرات ہوئے ہیں ان سے ان فریقوں کے درمیان عمیق اختلافات کا پتہ چلا ہے اور معلوم ہو گیا ہے کہ صلح کا عمل کس قدر دشوار ہے ۔بد قسمتی سے فریقوں کے درمیان اعتماد بہت کمزور ہے ۔اس نے مزید کہا : یہ ماننا پڑے گا کہ موجودہ اختلافات اس حد تک ہیں کہ احتمال پایا جاتا ہے کہ مذاکرات کرنے والے آیندہ دنوں میں بنیادی مسائل کے سلسلے میں آگے نہیں بڑھ پائیں گے ۔
فرانس نیوز ایجینسی نے یمن کے حالات کے بارے میں اشارہ کیا ہے کہ فوجی ذرائع کے بقول یمن میں جنگ بندی کی مدت میں تمدید کے باوجود منگل وار کے دن بھی اس ملک کے بعض علاقوں می جھڑپیں ہوئی ہیں اور بمباری کی گئی ہے ۔جنگ بندی کی تدبیر یمن میں ۱۵ دسمبر سے اپنائی گئی تھی لیکن اب تک بارہا متحارب فریقوں نے اس کی مخالفت کی ہے ۔
یمن میں اقوام متحدہ کے نمایندے نے بھی اس ملک میں جنگ بندی کی کئی بار مخالفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور ۱۴ جنوری کو ہونا طے پایا ہے ۔ اقوام متحدہ نے یمن کو سوڈان عراق اور شام کے ساتھ سب سے بڑے انسانی بحران میں شمار کیا ہے ۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں ۸۰ فیصد لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے ۔
اسی دوران اس سلسلے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ یمن میں جو بے ثباتی ہے اس کی وجہ سے انتہا پسند گروہ اس ملک میں طاقت پکڑ سکتے ہیں ۔ یہ ایسا موضوع ہے کہ جس کی طرف سلامتی کونسل کے جلسے میں انسانی حقوق کے کمیشنر نے اشارہ کیاہے ۔اس کے بقول اس کی وجہ سے بحران یمن کے باہر بھی سرایت کر سکتا ہے اور پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس سے علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲